سرینگر، 29دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)جموں و کشمیر کے موسم گرما کے دارالحکومت میں گذشتہ رات کوتین دہائیوں کی دسمبر کی تقریبا سرد ترین رات رہی، جہاں کم از کم درجہ حرارت صفرسے 7.6ڈگری سینٹی میٹر تھا۔وادی کے زیادہ حصوں اور لداخ کے علاقوں میں درجہ حرارت صفر سے نیچے رہا،جس کے نتیجے میں ذخائراور نالوں میں بھی پانی منجمد ہوگیا،7دسمبر، 1990کو سرینگر میں کم از کم درجہ حرارت 8.8ڈگری سینٹی میٹر گیاتھا۔ سوشل میڈیا میں سرینگر میں تعینات سی آر پی ایف کے ڈپٹی ایس پی کے کشیپ نے ایک تصویر شیئرکی،جوسردی کی تازگی کو ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے۔جس میں ٹونٹی سے گرتاپانی اور ٹونٹی سے اردگردجمع پانی سب جم گیاہے۔اس کے علاوہ سرینگر کے مشہور ڈیل جھیل بھی مکمل طور پر جم گئی ہے۔جھیل میں بمشکل شکارا یا ناؤ چل پارہی ہے۔سرینگر اور دیگر شہروں کے بہت سے رہائشی علاقوں میں پانی جمع کرنے والی پائپ لائنوں میں بھی پانی جم گیا ہے۔موسمیات کے ماہرین نے وادی اور لداخ کے علاقے میں کہیں کہیں ہلکی بارش یا برف باری کی پیشن گوئی کی ہے۔وسمیات کے محکمہ کے ایک اہلکار کے مطابق وادی میں مختلف مقامات پر رات کے درجہ حرارت میں ریکارڈ کمی درج کی گئی۔سرینگر میں بدھ کی شام کو درجہ حرارت 7.6ڈگری سینٹی میٹر تھا۔اس سے پہلے یہ کم از کم 6.7ڈگری سیلسیس تھا۔